24 جولائی 2011 - 19:30

علامہ شہیدی نے استقلال پاکستان کانفرنس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ کرم ایجنسی کو آفت زدہ قرار دیا جائے اور وہاں کے باسیوں کوتمام قانونی مراعات فوری طور پر دی جائیں۔

ابنا: مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری علامہ محمد امین شہیدی نے کہا ہے کہ  حکومت اور پیمرا کی طرف سے استقلال پاکستان کنونشن کے اجتماع کی میڈیا میں کوریج کی بندش کی سازش قابل مذمت ہے، اگرچہ وزیر داخلہ رحمن ملک نے اس اقدام پر فون کر کے باقاعدہ معافی مانگی اوراس واقعہ کی انکوائری کا حکم دیا ہے لیکن ہمیں ایسا کوئی عذر قابل قبول نہیں ہے ہم محسوس کرتے ہیں کہ یہ دانستہ کیا گیا، ملت جعفریہ کے ساتھ پچھلے 30 سالوں سے امتیازی سلوک روا رکھا جا رہا ہے، کالعدم جماعتوں اور ان کے نام نہاد رہنمائوں کی بھر پور کوریج کی جاتی ہے لیکن صرف اور صرف ملت جعفریہ کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جا رہا ہے ، ہمیں پس دیوار دھکیلنے کی پالیس ترک کی جائے بصورت دیگر اس کے برے نتائج سامنے آئیں گے۔ان خیالات کا اظہار مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی دفتر میں منعقدہ ایک پر ہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران کیا ، اس موقع پر اورکزئی ایجنسی کے سابق ایم این اے سید منیر حسین شاہ، ایم ڈبلیو ایم کی شوریٰ عالی کے رکن علامہ ہاشم الموسوی، سندھ کے صوبائی سیکرٹری علامہ مختار امامی ،علامہ عالم موسوی ، شعبہ فلاح و بہبود کے مرکزی سیکرٹری برادر نثار فیضی اور شعبہ امور جوانان کے مرکزی سیکرٹری شیخ اعجاز حسین بہشتی بھی موجود تھے۔ علامہ امین شہیدی نے کہا کہ پاکستان کی بدقسمتی یہ ہے کہ روز اول ہی سے یہ ملک کرپٹ سیاستدانوں فوجی آمروں جاگیر داروں اور خون خوار سرمایہ داروں کا اسیر رہا ذاتی مفادات کیلئے قوم ، وطن ،ریاستی مفادات کو قربانی کی بھینٹ چڑھانے والے ان لوگوں نے وطن عزیز کے مفادات کا سودا کیا اور اسے امریکی استعمار کی ایک ذیلی کالونی بنادیا، کسی بھی ملک کی خود مختاری کی حفاظت، سرحدوں کا دفاع اور اس کی معاشی ترقی تب تک ممکن نہیں جب تک استحصالی اور استعماری عزائم رکھنے والے ممالک کے قرضوں، امداد اور دیگر ہتھکنڈوں کی زنجیریں نہ توڑی جائیں، جب تک ہم غیر ملکی طاقتوں ، بالخصوص امریکہ کو وطن عزیز سے مکمل طور پر بے دخل نہیں کرتے ہمارا ملک خود مختار نہیں بن سکتا۔انھوں نے بتایا کہ ایم ڈبلیو ایم کے پلیٹ فارم سے استقلال پاکستان کنونشن اس منزل کی جانب پہلا قدم ہے اسی طرح حمایت مظلومین ریلی کا بنیادی مقصد دنیا بھر میں امریکی اور اسرائیلی مظالم کا شکار مظلوم اقوام من جملہ فلسطین، بحرین، عراق، لیبیا، افغانستان کشمیر نیز پاکستان میں جاری دہشت گردی، اغواء برائے تاوان اور ٹارگٹ کلنگ کے شکار مظلوم عوام، کرم ایجنسی کے 5 سال سے محصور بے گناہ مسلمانوں کی بلاتفریق حمایت اور وطن عزیز کو دہشت گردوں اورخارجی و داخلی خطروں سے محفوظ رکھنے کیلئے قوم کے اندر بیداری پیدا کرنا تھا۔اس صورت حال کے پیش نظر صر ف انسانی بنیادوں پر ایک امدادی کاروان پارا چنار کی جانب بھیجا جا رہا ہے یہ کاروان امن26 جولائی بوقت 2 بجے دوپہر انشاء اللہ یہ کارواں پشاور کی طرف روانہ ہو گا جس میں خشک غذائی اجناس اور ادویات شامل ہیں یہ قافلہ پہلے پشاور جائے گا ۔وہاں سے کرم ایجنسی کی طرف روانہ ہو گا۔ یہ سامان کرم ایجنسی کے متاثرین میں بلاتفریق مذہب و مسلک و قبیلہ تقسیم کیا جا ئے گا تا کہ اُن مظلوموں کی کسی حد تک اشک شوئی ہو سکے۔ انھوں نے مطالبہ کیا کہ ورلڈ بنک اور آئی ایم ایف سے قرضے لینے کا سلسلہ فوری طور پر ختم کیا جا ئے ۔قرضے معاف کرانے والے سیاستدانوں، بیوروو کریٹس اورسیاسی سرمایہ داروں نے تمام قرضوں کی بلا امتیازواپسی کویقینی بنائے۔ قتل و غارت ،ٹارگٹ کلنگ کو روکنے کیلئے کوئٹہ ،ڈیرہ اسماعیل خان بالخصوص کراچی کو اسلحہ سے پاک کرنے کیلئے بلا تفریق فورا ً فوجی آپریشن کیا جا ئے ۔ ملک میں غیرقانونی سر گرمیوں میں ملوث دہشت گرد اور شدت پسند گروہوں اور جماعتوں پر فوراً عملی پابندی لگائی جائے، کرم ایجنسی کا راستہ محفوظ بنا کر فوری طور پر کھولا جا ئے ، کرم ایجنسی کو آفت زدہ علاقہ قرار دے کر وہاں کے باسیوں کوتمام قانونی مراعات فوری طور پر دی جا ئیں، بلوچستان کے محروم عوام کو ان کے تمام حقوق دیکر ان کی 63سالہ محرومیوں کا ازالہ کیا جا ئے،کراچی ،کوئٹہ ،گلگت اور ڈیرہ اسما عیل خان بلوچستان خصوصاً کوئٹہ میں ٹارگٹ کلنگ کے ذمہ دار سیاسی و مذہبی ٹھیکیداروں کو گر فتار کر کے قرار واقعی سزادی جا ئے،یہ اجتماع کرم ایجنسی میں شدت پسندی اوردہشت گردی کے خلاف نمائیشی نہیںبلکہ حقیقی آپریشن کاکیا جائے،یہ بلوچستان ، مانسہرہ اور آزاد کشمیر میں موجود شدت پسندوں اور دہشت گردوں کے ٹریننگ کیمپس کو فوراً ختم کیا جا ئے۔شہید لیفٹیننٹ یاسر عباس کی PNSمہران میں لازوال قربانی کے پیش نظراسے نشان ِ حیدر یا جائیکستان ایران اور افغانستان پر مشتمل خطے میں اسلامی بلاک بنا کر خطے میں امریکی مفادات کے خاتمے کیلئے عملی قدم اٹھائے جائیں۔ انھوں نے کراچی میں ممتازقانون دان سید مختار حسین بخاری قتل کی مذمت کرتے ہوئے قاتلوں کی فعری گرفتاری کا مطالبہ کیا اور سینکڑوں پاکستانیوں کے قاتل، انسانیت دشمن دہشت گرد کی گذشتہ ہفتے باعزت رہائی کو آزاد عدلیہ اور حکومت پنجاب کی بددیانتی قراردیا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/110